۱۔ ناجائز طریقے سے کمائی ہوئی رقم سے حج کرنے پر وہ اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوتا۔ ایسا شخص جب ’’لبیک‘‘ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی لبیک کو رد فرما دیتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں: تمہاری لبیک قبول نہیں اور نہ تمہارے لیے کوئی سعادت کی بشارت ہے۔ تمہارا زادِ راہ حرام ہے، تمہاری مال و دولت حرام ہے اور تمہارا حج غیر مبرور اور ناقابلِ قبول ہے۔[1] اس اعتبار سے حج کی ابتدائی تیاری یہ ہونی چاہیے کہ حلال روزی کے ذریعے اپنی اور اہل و عیال کی ضروریات پوری کی جائیں اور حج کے لیے ایک ایک پیسہ مکمل طور پر حلال رزق و مال سے جمع کیا جائے۔ اگر حلال رزق کما کر حج پر جانے کے لیے رقم جمع نہ کر سکیں تو آپ پر حج فرض نہیں ہوگا۔ یہ ضروری نہیں کہ آپ کو ہر حال میں حج پر جانا ہی ہے۔ بلکہ گھر بار کی ضروری حاجات پوری کرنے کے بعد جب حج کا خرچ میسر آجائے، تبھی حج فرض ہوتا ہے۔ اس لیے کبھی حرام پیسے سے حج کرنے کا منصوبہ نہ بنائیں۔ اگر صورتِ حال یہ ہو کہ آپ کا سارا مال ہی حرام ہے تو توبہ کریں۔ حرام راستہ چھوڑ کر حلال طریقے سے مال کمانا شروع کریں اور عہد کریں کہ آئندہ کبھی حرام راستے پر نہیں چلیں گے۔ پھر جب ضروری حلال رقم جمع ہوجائے، تبھی حج کی نیت کریں۔
۲۔ اگر آپ پر کوئی قرض ہو تو حج کرنے سے پہلے اسے ادا کر دیں۔ البتہ اگر آپ بڑے تاجر ہوں اور قرض لینا آپ کی روزمرہ عادت یا ضرورت ہو تو اپنے تمام قرضوں کے بارے میں ایک الگ وصیت نامہ تیار کریں۔ جو لوگ آپ کے وارث یا جانشین ہوں گے، انہیں اس معاملے کی ذمہ داری سونپ کر جائیں۔
۳۔ بیلٹی یا نان بیلٹی، دونوں صورتوں میں آپ سے جتنی رقم وصول کی جاتی ہے، اس کے علاوہ بھی بیس تیس ہزار کی اضافی رقم ساتھ رکھنے کی کوشش کریں۔ اگر ممکن ہو تو اس سے بھی زیادہ رکھیں۔ یہ رقم ضرورت کے وقت خرچ کرنے، مثلاً کسی غلطی کے باعث بطورِ کفارہ دم واجب ہوجانے، کے علاوہ ساتھی حاجیوں کی ضیافت کرنے، محتاج حاجیوں کی مدد کرنے وغیرہ میں خرچ کریں۔ حتیٰ کہ بھوک یا پیاس لگنے پر بخل کیے بغیر ضروری کھانا پینا حاصل کرنے کے لیے بھی آپ کے پاس اضافی رقم ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ رشتہ داروں کے لیے ہدیے اور تحائف خریدنا بھی آپ کو ایک ضرورت محسوس ہوسکتی ہے، اس لیے اس غرض سے بھی اضافی رقم ساتھ لے جاسکتے ہیں۔
۴۔ رقم کو محفوظ جگہ پر رکھیں۔ کمر کی بیلٹ میں ساری رقم ایک ساتھ نہ رکھیں۔ آپ اپنے بیگ میں، یا اگر قابلِ اعتماد ہو تو ہوٹل کے مالک یا معلم کے دفتر میں رسید لے کر رقم جمع کرا سکتے ہیں۔ منیٰ اور عرفات میں بھی زیادہ رقم ساتھ نہ لے جائیں، کیونکہ کچھ لوگ حج کے نام پر لوگوں کے ہجوم میں رقم ہتھیانے کی تاک میں رہتے ہیں۔ ان کے چنگل سے اپنی رقم محفوظ رکھیں۔
[1] - ناداه مناد من السماء لا لبيك ولا سعديك زادك حرام ونفقتك حرام وحجك غير مبرور