۱۔ سب سے پہلے اپنی نیت کو خالص کریں، کیونکہ اعمال کا دارومدار نیتوں ہی پر ہے۔ حدیث میں آیا ہے: ’یقیناً اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے‘[1]۔ لہٰذا خود کو دکھاوے، حج کرنے سے معاشرے میں عزت و مرتبہ بڑھے گا، نام کے ساتھ الحاج لکھا جا سکے گا، انتخابی مقابلے میں عوام کو زیادہ متاثر کیا جا سکے گا وغیرہ جیسے خیالات سے پاک کریں۔ ان ذہنی رویّوں کو ’ریا‘ کہا جاتا ہے۔ ریا ایک سنگین گناہ ہے جسے حدیث میں شرکِ اصغر کہا گیا ہے۔[2] یہ بات اچھی طرح یاد رکھیں کہ دل میں شرکِ اصغر رکھتے ہوئے حج کرنے سے حج قبول نہیں ہوگا۔ لہٰذا ریا سے پاک رہیں اور اللہ سے دعا کریں کہ وہ ریا سے پاک حج ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ رسول اللہ ﷺ خود بھی ایسی دعا فرمایا کرتے تھے۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ سے دعا کرتے ہوئے فرمایا،
اللهم حجة لا رياء فيها ولا سمعة .
-اے اللہ! ایسے حج کی توفیق عطا فرما جو ریا اور شہرت حاصل کرنے کی خواہش سے پاک ہو۔[3]
۲۔ جس دن سے آپ نے حج ادا کرنے کی نیت کی ہے، اسی دن سے یہ سمجھیں کہ آپ کی زندگی کا ایک نیا باب شروع ہوگیا ہے۔ اگر اس سے پہلے آپ نے اللہ کے حقوق ضائع کیے ہیں، نماز، روزہ اور زکوٰۃ وغیرہ کی ادائیگی میں کسی قسم کی بے اعتنائی، بے رغبتی یا غفلت برتی ہے تو معافی مانگ کر اللہ کی طرف لوٹ آئیں۔ حقوق اللہ کے سلسلے میں تمام معلوم و نامعلوم گناہوں سے نجات مانگتے ہوئے اللہ کے حضور گڑگڑائیں۔ روئیں۔ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت اور بے حد بخشنے والا ہونے کو پیش نظر رکھتے ہوئے دل کھول کر نجات طلب کریں۔
اب سے حقوق اللہ یا اللہ کے حقوق کے دائرے میں آنے والے ہر معاملے کو انتہائی اہتمام کے ساتھ ادا کریں۔ گزشتہ گناہوں اور زیادتیوں سے توبہ کریں۔ توبہ کا طریقہ یہ ہے:
الف۔ ہر قسم کے گناہوں سے باز آنا اور انہیں مکمل طور پر ترک کر دینا۔
ب۔ گزشتہ تمام گناہوں اور زیادتیوں پر ندامت کا اظہار کرنا۔
ج۔ پختہ عہد کرنا کہ آئندہ کبھی ایسے گناہ میں مبتلا نہیں ہوں گے۔
۳۔ اگر گناہ حقوق العباد، یعنی بندوں کے حقوق سے متعلق ہو تو توبہ سے پہلے اسے حل کرنا ہوگا۔ خواہ معاوضہ دے کر ہو یا معافی مانگ کر، متعلقہ شخص سے معاملہ طے کرنے کے بعد توبہ کرنی ہوگی۔ بصورت دیگر توبہ سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ یاد رکھیں کہ اگر متاثرہ شخص سے معاملہ حل نہ کیا تو قیامت کے دن آپ کے تمام نیک اعمال اس کے نامۂ اعمال میں لکھ دیے جائیں گے۔ نیک اعمال موجود نہ ہونے کی صورت میں اس شخص کے گناہوں کا بوجھ آپ کے کندھوں پر ڈال دیا جائے گا۔ لہٰذا اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ حج کرنے سے بھی حقوق العباد معاف نہیں ہوتے، جب تک معاوضہ دے کر یا معافی مانگ کر اس شخص کو راضی نہ کر لیا جائے۔ یہ عہد کریں کہ آئندہ کبھی کسی کو ناحق تکلیف نہیں دیں گے اور نہ کبھی کسی کا مال ناجائز طریقے سے کھائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی جن لوگوں کے ساتھ آپ نے ماضی میں بدسلوکی کی ہے یا جن کا مال حرام طریقے سے آپ کے قبضے میں آیا ہے، ان سے معافی مانگیں۔ ان کا حق اور مال واپس کریں۔ ان کی بھلائی کے لیے دعا کریں۔ اپنی زیادتیوں پر بھی اللہ سے معافی مانگیں اور استغفار کریں۔
۴۔ حج کی ادائیگی کے دوران لڑائی جھگڑا اور بحث و تکرار ممنوع ہے۔[4] لہٰذا پہلے ہی سے اپنے اندر تحمل مزاجی پیدا کرنے کے لیے ذہنی طور پر
تیاری کریں۔ عہد کریں کہ حج کے دنوں میں آپ کسی بھی حالت میں کسی سے جھگڑا نہیں کریں گے، خواہ آپ کو اپنے جائز حق ہی سے محروم کیوں نہ کر دیا جائے۔
۵۔ ایک مقولہ ہے کہ سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ ماضی میں اونٹوں اور گھوڑوں کے ذریعے آمدورفت کے زمانے میں سفر کی مشقت موجودہ دور کی نسبت ہزار گنا زیادہ تھی۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ اب بالکل کوئی مشقت نہیں ہوتی۔ بلکہ حج کے سفر میں مختلف حالات کے دوران ناقابلِ بیان مشقت برداشت کرنا پڑتی ہے۔ مثلاً آپ عرفات سے مزدلفہ آ رہے ہوں، بسیں آ جا رہی ہوں لیکن ہجوم کی وجہ سے آپ کسی میں بھی سوار نہ ہو پا رہے ہوں۔ گھنٹوں انتظار کے بعد بس میں سوار ہونے کا موقع ملا، مگر کھڑے رہنا پڑا اور راستے میں شدید ہجوم کا سامنا ہوا۔ فرض کریں آپ کی گاڑی ایئرکنڈیشنڈ نہیں ہے، اس لیے گرمی اور لوگوں کے ہجوم سے آپ کا دم گھٹنے لگتا ہے۔ ایسی حالت میں صبر کے سوا آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ اسی طرح مختلف جگہوں پر انتظار، محرومی، حتیٰ کہ بھوک اور پیاس کی ناقابلِ بیان تکلیف کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔ ان تمام حالات کے لیے آپ کو ابھی سے ذہنی طور پر تیار رہنا ہوگا۔ حج کا سفر مشقت کا سفر ہے۔ یہ صرف اللہ کی خاطر جسمانی اور ذہنی، دونوں طرح کی تکلیفیں برداشت کرنے کا سفر ہے۔ لہٰذا ابتدا ہی سے صبر کا پختہ عزم کرکے حج کے سفر کے لیے تیار ہوں۔
۶۔ اللہ کا ذکر حج کا لازمی حصہ ہے۔ سورۂ بقرہ کی آیات ۱۹۸، ۲۰۰ اور ۲۰۳ میں حج کے دوران ذکر کا تذکرہ آیا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ حج میں طواف، سعی اور کنکریاں مارنے کے احکام اللہ کے ذکر اور یاد کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔[5] اس اعتبار سے حج کا پورا وقت اللہ کے ذکر اور یاد میں گزرے اور اللہ کی مہمانی میں رہتے ہوئے اللہ کا دھیان اور اس کی یاد ہر وقت آپ کے دل کو متحرک رکھے، اس کے لیے ابتدا ہی سے ذہنی تیاری اور مشق کرنا ضروری ہے۔ بصورت دیگر اچانک خود کو اللہ کے ذکر اور یاد کا پابند بنانا ممکن نہیں۔ اسی وجہ سے حج کی ادائیگی کے دوران اکثر حاجیوں کو ذکر سے غافل دیکھا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ گھر بار، بیوی بچوں اور کاروبار کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے وقت گزارتے دکھائی دیتے ہیں۔ لہٰذا اس معاملے پر پہلے ہی سے توجہ دیں اور تسبیح و تہلیل کی عادت ڈالیں۔
۷۔ کسی بھی عبادت کی ادائیگی کے وقت رسول اللہ ﷺ کے طریقے کی پیروی انتہائی اہم ہے، کیونکہ رسول اللہ کے اسوہ کو چھوڑ کر اپنی یا کسی دوسرے شخص کی عقل اور رائے کے مطابق من مانی طریقے سے عبادت کی جائے تو وہ قبول نہیں ہوگی۔ لہٰذا اللہ سے مدد طلب کریں اور ذہنی طور پر تیار رہیں تاکہ آپ رسول اللہ ﷺ کے اسوہ کے مطابق ہر عمل انجام دے سکیں اور حمد و ثنا اور دعا و مناجات وغیرہ کے ذریعے اللہ کو یاد کر سکیں۔ اگر کسی جگہ کسی مسئلے میں مشکل پیش آئے تو یہ تلاش کرنے کی کوشش کریں کہ رسول اللہ نے اسے کس طرح انجام دیا تھا۔ جب کسی صحیح حدیث میں اپنے مسئلے کا حل مل جائے تو اسے مضبوطی سے تھام لیں۔ اگر کوئی شخص صحیح حدیث کا حوالہ دیے بغیر کچھ کہے تو اسے رد کر دیں۔ یاد رکھیں، کوئی شخصیت بذاتِ خود دلیل نہیں ہے۔ یہ بات صرف حج ہی نہیں بلکہ دیگر دینی عبادات اور رسوم کے بارے میں بھی درست ہے۔
۸۔ حج کی ادائیگی کے دوران جذبات میں آکر کوئی کام نہ کرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار رہیں۔ ہوشیار رہیں کہ کبھی کبھی جذبات آپ پر غالب آ سکتے ہیں۔ بصورت دیگر ممکن ہے کہ آپ ثواب کے بجائے گناہ لے کر وطن واپس آئیں۔ مثال کے طور پر فرض کریں کہ آپ طواف کر رہے ہیں۔ آپ نے جذباتی لوگوں کو مقامِ ابراہیم کو بوسہ دیتے اور ٹوپی یا رومال سے چھوتے دیکھا۔ آپ نے بھی جذبات میں آکر برکت حاصل کرنے کی غرض سے ویسا ہی کر لیا۔ ایسی حالت میں آپ نے اسلامی طریقے کے خلاف ایک کام کیا، جس پر بلاشبہ ثواب کے بجائے گناہ ہوگا۔ اسی طرح مدینہ میں رسول اللہ کے روضے پر جاکر اگر آپ نے رسول اللہ ﷺ سے اولاد مانگی یا بیماری سے شفا طلب کی تو آپ نے ایک واضح توحید مخالف کام کیا۔ لہٰذا جذبات کو قابو میں رکھنے کے لیے پہلے ہی سے تیاری کریں اور پختہ عزم کریں۔
۹۔ حج کا بنیادی نعرہ تلبیہ ہے، جس کا اصل پیغام یہ ہے کہ اللہ کا کوئی شریک نہیں اور اس نے آسمان و زمین کی بادشاہی چلانے میں کسی کو اپنا شریک نہیں بنایا، نہ ہی کسی میں اس کا شریک بننے کی کوئی اہلیت ہے۔ لہٰذا تمام تعریف صرف اسی کے لیے ہے۔ صرف وہی عبادت کا مستحق ہے۔ اس اعتبار سے حج کی ادائیگی کے دوران آپ کو بہت محتاط رہنا ہوگا کہ شرک کی کوئی آمیزش آپ کے دل و دماغ اور فکر و شعور تک نہ پہنچے، کیونکہ شرک انسان کے ایمان و اسلام کو جڑ سے تباہ کر دیتا ہے۔[6]
۱۰۔ حج میں مختلف نظریات کے لوگ پوری دنیا سے آکر جمع ہوتے ہیں۔ مردوں کے ساتھ خواتین کا بھی یکساں اجتماع ہوتا ہے۔ زیادہ تر خواتین کھلے چہرے کے ساتھ چلتی پھرتی اور نماز ادا کرنے آتی ہیں۔ ان میں سے بہت سی خواتین حسن و جمال کی حامل ہوتی ہیں۔ ایسی صورت میں اپنی نگاہوں پر قابو رکھنے کے لیے پہلے ہی سے ذہنی تیاری کرنا ضروری ہے۔ بصورت دیگر آپ ثواب کے بجائے گناہ کرکے حج سے واپس آئیں گے۔
۱۱۔ اگر میاں بیوی ایک ساتھ حج کرنے جائیں تو حج کے دنوں میں انہیں ازدواجی میل جول سے خود کو دور رکھنا ہوتا ہے۔ لہٰذا دونوں اس بارے میں نہایت مضبوط فیصلہ کریں اور ذہنی تیاری کر لیں۔ یاد رکھیں، بصورت دیگر پورا حج ہی ضائع ہو جائے گا۔
[1] إنما الأعمال بالنيات -- (بخاری: حدیث نمبر ۱)
[2] - إن أخوف ما أخاف عليكم الشرك الأصغر ، قالوا : وما الشرك الأصغر ، يارسول الله ؟ قال : الرياء (احمد: حدیث نمبر ۲۲۵۲۴)
[3] - ابن ماجہ: ۸۹۰
[4] - وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ (سورۂ بقرہ: ۱۹۷)
[5] - إنما جعل الطواف بالبيت وبين الصفاء والمروة ورمي الجمار لإقامة ذكر الله (ابوداؤد: حدیث نمبر ۱۶۱۲)
[6] - لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ (سورۂ زمر: ۶۵)