براہ راست مواد پر جائیں

حج گائیڈ

۹ ذوالحجہ

باب کے صفحات

عرفات روانگی اور قیام

8 منٹ کا مطالعہآخری اپ ڈیٹ 10 ستمبر، 2026

۱۔ سنت یہ ہے کہ ۹ ذوالحجہ کی صبح فجر کی نماز منیٰ میں ادا کی جائے۔[1] سورج طلوع ہونے کے بعد تلبیہ پڑھتے ہوئے اطمینان کے ساتھ عرفات کی طرف روانہ ہوا جائے۔ تکبیر پڑھنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں،

«كَانَ يُلَبِّي الْمُلَبِّي لاَ يُنْكَرُ عَلَيْهِ وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ فَلاَ يُنْكَرُ عَلَيْهِ».

’تلبیہ پڑھنے والا تلبیہ پڑھتا تھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے معیوب نہیں سمجھتے تھے۔ اسی طرح تکبیر پڑھنے والا تکبیر پڑھتا تھا، اور آپ اسے بھی معیوب نہیں سمجھتے تھے۔‘[2]

۲۔ سنت یہ ہے کہ سورج ڈھلنے کے بعد مسجد نمرہ میں امامِ حج کے پیچھے ظہر و عصر ایک ساتھ ادا کرکے میدانِ عرفات میں داخل ہوا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کے وقت سے پہلے نمرہ میں ٹھہرے تھے۔ وہاں آپ کے لیے بنائے گئے خیمے میں آپ نے ظہر تک آرام فرمایا۔ نمرہ عرفات سے باہر، البتہ عرفات کی سرحد پر واقع ہے۔ پھر سورج ڈھلنے کے بعد آپ نے ظہر اور عصر کی نماز ظہر کے ابتدائی وقت میں ادا کی اور عرفات میں داخل ہوئے۔‘[3]

موجودہ زمانے میں اس سنت پر عمل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ تاہم اگر کوئی راستوں سے اچھی طرح واقف ہو، اسے یقین ہو کہ وہ تنہا عرفات میں اپنے ساتھیوں کے پاس واپس آسکتا ہے، یا اس میں اکیلے مزدلفہ جانے، رات گزارنے اور وہاں سے منیٰ کے خیمے میں واپس آنے کی قوت، ہمت اور خود اعتمادی ہو، تو اس کے لیے مسجد نمرہ میں اس سنت کو ادا کرنا ممکن ہے۔

۳۔ سنت یہ ہے کہ امامِ حج حجاج کو موقع و محل کے مطابق خطبہ دے۔ اس میں توحید اور اسلام کے ضروری احکام و مسائل بیان کرے۔ حجاج کو حج کے احکام سے آگاہ کرے۔ انہیں توبہ کی یاد دہانی کرائے اور قرآن و سنت پر ثابت قدم رہنے کی دعوت دے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں حجۃ الوداع کا خطبہ دیتے وقت کیا تھا۔

۴۔ سنت یہ ہے کہ ظہر اور عصر کو قصر کرکے ظہر کے وقت میں ایک ساتھ ادا کیا جائے اور کوئی سنت یا نفل نماز نہ پڑھی جائے۔ یہ حکم تمام حجاج کے لیے ہے۔ اہلِ مکہ، عرفات کے گرد و پیش میں رہنے والوں اور دور سے آنے والے حجاج کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابۂ کرام کے ساتھ ظہر و عصر کو قصر کرکے ظہر کے وقت میں ایک ساتھ ادا کیا تھا۔ موجود تمام حجاج نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان دونوں نمازوں کو قصر کرکے ایک ساتھ ادا کیا۔ آپ نے کسی کو پوری نماز ادا کرنے کا حکم نہیں دیا۔ البتہ بعض روایات میں آیا ہے کہ آٹھ ہجری میں فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ مکہ سے فرمایا تھا،

«يَا أَهْلَ مَكَّةَ ، أَتِمُّوا ؛ فَإِنَّا قَوْمٌ سَفْرٌ».

’اے اہلِ مکہ! تم نماز پوری کرلو، کیونکہ ہم مسافر ہیں۔‘[4] لیکن حجۃ الوداع کے موقع پر آپ نے یہ نہیں فرمایا۔ اس لیے صحیح قول یہ ہے کہ اس وقت نمازوں کو قصر کرنا اور دونوں نمازوں کو جمع کرنا، یعنی ایک ساتھ ادا کرنا سنت ہے۔ قصر اور جمع نہ کرنا درست نہیں۔ حجۃ الوداع کے متعلق جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں،

«أَنَّ رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَتَى بَطْنَ الوَادِيْ فَخَطَبَ النَّاسَ، ثُمَّ أَذَّنَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا».

’نبی صلی اللہ علیہ وسلم وادی کے وسط میں تشریف لائے اور لوگوں کو خطبہ دیا۔ پھر (بلال نے) اذان اور اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز کی امامت فرمائی۔ پھر (بلال نے) دوبارہ اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز ادا کی۔ ان دونوں کے درمیان کوئی دوسری نماز ادا نہیں کی۔‘[5]

۵۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ امامِ حج کے پیچھے جماعت نہ پانے کی صورت میں بھی ظہر و عصر کو جمع کرتے تھے۔ صحیح بخاری میں ایک روایت ہے،

«وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِذَا فَاتَتْهُ الصَّلاَةُ مَعَ الإِمَامِ جَمَعَ بَيْنَهُمَا».

’ابن عمر رضی اللہ عنہ اگر امام کے ساتھ نماز سے رہ بھی جاتے تو دونوں نمازیں ایک ساتھ پڑھتے تھے۔‘[6]

مشہور راویِ حدیث نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’ابن عمر رضی اللہ عنہ عرفہ کے دن اگر امام کو نماز میں نہ پاتے تو اپنی قیام گاہ ہی میں ظہر و عصر ایک ساتھ ادا کرتے تھے۔‘[7]

حنفی مذہب کے دو مشہور اماموں، امام محمد رحمہ اللہ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے بھی یہی رائے بیان کی ہے:

مُحَمَّدٌ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُوْ حَنِيْفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيْمَ، قَالَ: إِذَا صَلَّيتَ يَوْمِ عَرَفَةَ فِيْ رِحْلِِكَ فَصَلِّ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنَ الصَّلاَتَيْنِ لِوَقْتِهَا، َوتَرْتَحِلُ مِنْ مُنْزِلٍ حَتَّى تَفْرُغَ مِنَ الصَّلاَةِ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا كَانَ يَأْخُذُ أَبُوْ حَنِيْفَةَ، فَأَمَّا فِيْ قَوْلِنَا فَإِنَّهُ يُصَلِّيْهَا فِيْ رِحْلِهِ كَمَا يُصَلِّيْهَا مَعَ الإِمَامِ، يَجْمَعُهُمَا جَمِيْعًا بِأَذَانٍ وَإِقَامَتَيْنِ، لأَنَّ الْعَصْرَ إِِنَّمَا قُدِّمَتْ لِلْوُقُوْفِ وَكَذَلِكَ بَلَغَنَا عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِيْنَ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، وَعَنْ عَطَاءَ بْنِ أَبِيْ رَبَاحٍ، وَعَنْ مُجَاهِدٍ .

’امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: (امام) ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے ہمیں حماد، ابراہیم کے واسطے سے خبر دی۔ انہوں نے فرمایا: عرفہ کے دن اگر تم اپنی قیام گاہ میں نماز ادا کرو تو دونوں نمازوں میں سے ہر ایک کو اس کے اپنے وقت میں ادا کرو، اور نماز سے فارغ ہوکر اپنی قیام گاہ سے روانہ ہوجاؤ۔ (امام) محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: (امام) ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے اسی قول کو اختیار کیا ہے۔ لیکن ہمارا قول یہ ہے کہ (حاجی) اپنی قیام گاہ میں دونوں نمازیں بالکل اسی طرح ادا کرے جس طرح امام کے پیچھے ادا کرتا ہے۔ دونوں نمازوں کو ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ جمع کرکے ادا کرے، کیونکہ وقوف کی خاطر نمازِ عصر کو پہلے ادا کیا گیا ہے۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا، عبداللہ ابن عمر، عطا ابن ابی رباح اور مجاہد رحمہ اللہ سے بھی ہمیں یہی بات پہنچی ہے۔‘[8]

لہٰذا امامِ حج کے پیچھے جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا ممکن ہو یا نہ ہو، ہر حال میں ظہر و عصر کو جمع کرکے پڑھنا سنت ہے۔

۶۔ اگر حجاج نماز کے بعد عرفات کی حدود میں داخل نہ ہوئے ہوں تو داخل ہوجائیں۔ جو لوگ مسجد نمرہ میں نماز ادا کریں، وہ اس امر کا ضرور خیال رکھیں، کیونکہ مسجد نمرہ کا قبلے کی جانب والا حصہ عرفات کی حدود سے باہر واقع ہے۔ یاد رکھیں، عرفات سے باہر ٹھہرنے سے حج نہیں ہوگا۔

۷۔ اس کے بعد دعا اور مناجات میں مشغول ہوجائیں۔ کھڑے، بیٹھے اور چلتے ہوئے، غرض ہر حال میں دعا اور ذکر کرتے رہیں۔ نماز کی ادائیگی کے بعد سے غروبِ آفتاب تک دونوں ہاتھ اٹھاکر دھیمی آواز میں کثرت سے دعا، ذکر اور استغفار میں مشغول رہیں۔ اسامہ ابن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں،

«كُنْتُ رَدِيفَ النَّبِىِّ صلى الله عليه وسلم بِعَرَفَاتٍ فَرَفَعَ يَدَيْهِ يَدْعُو فَمَالَتْ بِهِ نَاقَتُهُ فَسَقَطَ خِطَامُهَا فَتَنَاوَلَ الْخِطَامَ بِإِحْدَى يَدَيْهِ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَهُ الأُخْرَى».

’میں عرفات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اونٹنی پر سوار تھا۔ اس وقت آپ دونوں ہاتھ اٹھاکر دعا کر رہے تھے۔ پھر آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر جھک گئی، جس سے اس کی لگام گر گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ سے لگام اٹھالی، جبکہ آپ کا دوسرا ہاتھ بدستور اٹھا ہوا تھا۔‘[9]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزید فرماتے ہیں،

«خَيْرُ الدُّعَاءِ دُعَاءُ يَوْمِ عَرَفَةَ وَخَيْرُ مَا قُلْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّونَ مِنْ قَبْلِى. لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِير».

’سب سے بہتر دعا عرفہ کے دن کی دعا ہے، اور سب سے بہتر کلمہ وہ ہے جو میں نے اور مجھ سے پہلے انبیاء نے کہا، اور وہ یہ ہے: (لا الٰہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد وہو علی کل شیء قدیر۔) ’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہی اور تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘[10]

قرآن کی تلاوت اور وعظ و نصیحت کی مجلس میں شریک ہونا وغیرہ بھی عرفات میں قیام کے اعمال میں شامل ہوگا۔ البتہ خواتین کو صرف بیٹھ کر دھیمی آواز میں دعا، ذکر اور قرآن کی تلاوت کرنے کی ہدایت ہے۔ دن کے آخری وقت سے خصوصی طور پر فائدہ اٹھائیں اور پوری طرح دعا میں مشغول رہیں۔

۸۔ عرفات کا پورا علاقہ حجاج کے وقوف کی جگہ ہے۔ یاد رکھیں، وادی عرنہ عرفات میں وقوف کی جگہ سے باہر ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،

«كُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ ، وَارْتَفِعُوا عَنْ بَطْنِ عُرَنَةَ»

’عرفات کا ہر مقام وقوف کی جگہ ہے، البتہ بطنِ عرنہ سے نکل جاؤ۔‘[11]

موجودہ مسجد نمرہ کا ایک حصہ اور اس سے ملحق نشیبی علاقہ ہی بطنِ عرنہ یا وادی عرنہ ہے۔ لہٰذا کوئی شخص وہاں وقوف نہ کرے۔ مسجد نمرہ میں نماز ادا کرنے کے بعد مسجد کے اس حصے کی طرف جاکر ٹھہریں جو عرفات کے اندر واقع ہے۔ اس وقت مسجد کے اندر نیلی روشنی کے ذریعے عرفات کی نشان دہی کی گئی ہے۔ لہٰذا اس بارے میں محتاط رہیں۔

[1]۔ موجودہ زمانے میں حجاج کی تعداد بڑھ جانے کی وجہ سے انہیں فجر سے پہلے ہی عرفات لے جایا جاتا ہے۔ یقیناً یہ سنت کے خلاف ہے۔ تاہم حالات و ماحول کی وجہ سے یہ سنت رہ جائے تو ان شاء اللہ کوئی حرج نہیں ہوگا۔

[2]۔ بخاری: ۹۷۵؛ مسلم: ۱۲۸۵۔

[3]۔ بخاری: ۱۶۶۰؛ مسلم: ۱۲۱۸۔

[4]۔ بیہقی: ۳/۱۳۵؛ مسند احمد: ۴/۴۳۲۔ (اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔ تاہم مؤطا امام مالک میں یہ عمر رضی اللہ عنہ سے ان کے اپنے قول کے طور پر مروی ہے۔ وہ ایک مرتبہ مکہ آئے اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ نماز قصر کرکے ادا کی۔ پھر ان کے ساتھ جن مقامی لوگوں نے نماز ادا کی تھی، انہیں نماز پوری کرنے کا حکم دیا۔ مؤطا: ۱/۱۴۰، ۲۰۲۔)

[5]۔ مسلم: ۱۲۱۸۔

[6]۔ بخاری: ۱۶۶۲۔

[7]۔ جعفر احمد عثمانی، اعلاء السنن، ۷/۳۰۷۳، دار الفکر، بیروت، ۲۰۰۱۔

[8]۔ جعفر احمد عثمانی، حوالۂ سابق۔

[9]۔ مسند احمد: ۲۱۸۷۰؛ سنن نسائی: ۳۰۱۱۔

[10]۔ ترمذی: ۳۵۷۵۔

[11]۔ مؤطا امام مالک: ۳۰۱؛ مسند احمد: ۱۶۷۹۷۔