یومِ عرفہ کی فضیلت
ذوالحجہ کی 9 تاریخ کو ’یومِ عرفہ‘ یا عرفہ کا دن کہا جاتا ہے۔ اس دن عرفات میں وقوف کرنا حج کا سب سے افضل عمل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’حج عرفہ ہے۔‘[1] لہٰذا عرفات میں وقوف کرنا فرض ہے۔ عرفات میں وقوف کے بغیر حج صحیح نہیں ہوگا۔ اس دن کی فضیلت یوم النحر یا قربانی کے دن کے قریب ہے۔ ہر حاجی بھائی کو چاہیے کہ اس دن نہایت اہتمام کے ساتھ عمل کرے۔ اس دن کی فضیلت کے بارے میں مختلف احادیث مروی ہیں۔ ذیل میں ان میں سے بعض کا ذکر کیا جاتا ہے:
1. اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن بندوں کے قریب ہوتے ہیں اور سب سے زیادہ بندوں کو جہنم کی آگ سے آزاد فرماتے ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللَّهُ فِيهِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ وَإِنَّهُ لَيَدْنُو ثُمَّ يُبَاهِى بِهِمُ الْمَلاَئِكَةَ فَيَقُولُ مَا أَرَادَ هَؤُلاَءِ»
’کوئی دن ایسا نہیں جس میں اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن سے زیادہ بندوں کو جہنم کی آگ سے آزاد فرماتے ہوں۔ اللہ اس دن قریب ہوتے ہیں اور ان کے بارے میں فرشتوں کے سامنے فخر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟[2]
2. اللہ تعالیٰ عرفات میں وقوف کرنے والوں کے بارے میں آسمان والوں کے سامنے فخر فرماتے ہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُبَاهِى بِأَهْلِ عَرَفَاتٍ أَهْلَ السَّمَاءِ فَيَقُولُ لَهُمُ : انْظُرُوا إِلَى عِبَادِى جَاءُونِى شُعْثًا غُبْرًا»
’بے شک اللہ تعالیٰ عرفات میں وقوف کرنے والوں کے بارے میں آسمان والوں کے سامنے فخر فرماتے ہیں۔ وہ ان سے فرماتے ہیں: میرے بندوں کی طرف دیکھو، وہ پراگندہ بال اور غبار آلود حالت میں میرے پاس آئے ہیں۔‘[3]
3. عرفہ کا دن امتِ مسلمہ کے لیے عطا کردہ اللہ کے دین اور نعمت کی تکمیل کا دن ہے۔ طارق بن شہاب کہتے ہیں: ’یہودیوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ لوگ ایک ایسی آیت پڑھتے ہیں کہ اگر وہ ہم پر نازل ہوئی ہوتی تو ہم اس کے نزول کے دن کو عید مناتے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں یقیناً جانتا ہوں کہ وہ کس مقصد کے لیے اور کہاں نازل ہوئی، نیز اس کے نزول کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہاں تھے۔ وہ عرفہ کا دن تھا۔ اور اللہ کی قسم! ہم میدانِ عرفات میں تھے۔ (وہ دن جمعہ کا تھا) (آیت یہ تھی:
﴿ٱلۡيَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِينَكُمۡ ﴾ [المائدة: ٣]
’آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا‘)۔[4]
4. جبریل علیہ السلام نے اللہ کی طرف سے عرفات اور مزدلفہ میں وقوف کرنے والوں کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سلام پہنچایا اور ان کی خطاؤں کی ذمہ داری قبول کی۔ انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میدانِ عرفات میں غروبِ آفتاب سے پہلے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ لوگوں کو خاموش کرائیں۔ بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاموش ہو جاؤ۔ جب لوگ خاموش ہوگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«يَا مَعْشَرَ النَّاسِ أَتَانِيْ جِبْرِيْلُ آنِفًا فَأَقَرَأَنِيْ مِن رَّبِيْ السَّلاَمُ لأَهْلِ عَرَفَاتَ وَأَهْلِ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَضَمِنَ عَنْهُمْ التَّبِعَاتِ».
’اے لوگو! ابھی کچھ دیر پہلے جبریل میرے پاس آئے تھے۔ انہوں نے میرے رب کی طرف سے عرفات اور مزدلفہ میں وقوف کرنے والوں کے لیے مجھے سلام پہنچایا اور ان کی خطاؤں کی ذمہ داری قبول کی۔ عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا یہ صرف ہمارے لیے ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ تمہارے لیے بھی ہے اور تمہارے بعد قیامت تک آنے والوں کے لیے بھی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی رحمت بہت وسیع اور عمدہ ہے۔‘[5]
5. عرفات میں وقوف کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ خصوصی طور پر معاف فرما دیتے ہیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«وَأَمَّا وُقُوفُكَ بِعَرَفَةَ فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْزِلُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيُبَاهِي بِهِمُ الْمَلائِكَةَ، فَيَقُولُ:هَؤُلاءِ عِبَادِي جَاءُونِي شُعْثًا غُبْرًا مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ يَرْجُونَ رَحْمَتِي، وَيَخَافُونَ عَذَابِي، وَلَمْ يَرَوْنِي، فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْنِي؟ فَلَوْ كَانَ عَلَيْكَ مِثْلُ رَمْلِ عَالِجٍ، أَوْ مِثْلُ أَيَّامِ الدُّنْيَا، أَوْ مِثْلُ قَطْرِ السَّمَاءِ ذُنُوبًا غَسَلَ اللَّهُ عَنْكَ».
’اور عرفات میں تمہارا وقوف، اس وقت اللہ آسمانِ دنیا پر نزول فرماتے ہیں۔ پھر عرفات میں وقوف کرنے والوں کے بارے میں فرشتوں کے سامنے فخر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یہ میرے بندے ہیں، یہ پراگندہ بال اور غبار آلود ہوکر دور دراز علاقوں سے میرے پاس آئے ہیں۔ یہ میری ہی رحمت کی امید رکھتے ہیں اور میرے عذاب سے ڈرتے ہیں، حالانکہ انہوں نے مجھے دیکھا نہیں۔ اور اگر دیکھ لیتے تو ان کا کیا حال ہوتا؟ پھر اگر تمہارے گناہ وسیع صحرا کے ریت کے ذروں کے برابر، یا دنیا کے تمام دنوں کے برابر، یا آسمان سے برسنے والی بارش کے قطروں کے برابر بھی ہوں تو اللہ انہیں دھو کر بالکل صاف کر دے گا۔‘[6]
6. عرفہ کے دن کی دعا سب سے افضل دعا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«خَيْرُ الدُّعَاءِ دُعَاءُ يَوْمِ عَرَفَةَ».
’سب سے افضل دعا عرفہ کے دن کی دعا ہے۔‘[7]
7. جو لوگ حج کرنے نہیں آئے، اگر وہ عرفہ کے دن روزہ رکھیں تو ان کے گزشتہ ایک سال اور آئندہ ایک سال کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرفہ کے دن کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:
«يُكَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ وَالْبَاقِيَةَ».
’عرفہ کے دن کا روزہ گزشتہ ایک سال اور آئندہ ایک سال کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔‘[8]
البتہ یہ روزہ حاجیوں کے لیے نہیں، بلکہ ان لوگوں کے لیے ہے جو حج کرنے نہیں آئے۔ حاجیوں کے لیے عرفہ کے دن روزہ رکھنا سنت کے خلاف ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر عرفہ کے دن روزہ نہیں رکھا، بلکہ سب کے سامنے دودھ نوش فرمایا۔‘[9] عکرمہ کہتے ہیں: میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے گھر گیا اور ان سے عرفہ کے دن میدانِ عرفات میں موجود ہوتے ہوئے روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میدانِ عرفات میں عرفہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔[10] بلکہ اس دن حاجی صاحب کا روزہ نہ رکھنا زیادہ دعا، ذکر، استغفار اور اللہ کی عبادت و بندگی کرنے میں معاون ہوتا ہے۔
[1]۔ مسند احمد، 4/335۔
[2]۔ مسلم: 1348۔
[3]۔ مسند احمد: 2/224۔
[4]۔ بخاری: 4606۔ ’عرفہ کے دن دین کی تکمیل کی تشریح کرتے ہوئے ابن رجب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس دن کئی اعتبار سے دین کو مکمل کیا گیا۔ ایک: حج فرض ہونے کے بعد مسلمانوں نے اس سے پہلے کبھی مکمل اسلامی ماحول میں حج ادا نہیں کیا تھا۔ اکثر علما نے یہی رائے بیان کی ہے۔ دو: اللہ تعالیٰ نے حج کو (اس دن) ابراہیمی بنیاد پر واپس لوٹایا اور شرک اور مشرکین کو الگ کر دیا۔ اس کے بعد عرفات کے اس مقام پر ان میں سے کوئی بھی مسلمانوں کے ساتھ شریک نہیں ہوا۔ اور نعمت کی تکمیل اللہ کی مغفرت اور معافی حاصل ہونے کے ذریعے ہوئی۔ کیونکہ اللہ کی مغفرت کے بغیر نعمت مکمل نہیں ہوتی۔ اس کی مثال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرماتے ہیں:
لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا
’تاکہ اللہ آپ کی اگلی اور پچھلی لغزشیں معاف فرما دے، آپ پر اپنی نعمت مکمل کر دے اور آپ کو سیدھا راستہ دکھائے (الفتح: 2)‘۔ لطائف المعارف: 486۔
[5]۔ صحیح الترغیب والترہیب: 1151۔
[6]۔ عبدالرزاق، المصنف: 8830۔
[7]۔ ترمذی: 2837؛ مؤطا مالک: 1/422۔
[8]۔ مسلم: 1163۔
[9]۔ مسلم: 1123؛ مسند احمد: 2/304۔
[10]۔ مسند احمد: 2/304۔