علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یوم النحر، یعنی 10 ذوالحجہ کے دن صبح صادق طلوع ہونے تک میدانِ عرفات میں وقوف کا وقت باقی رہتا ہے۔ اگر کوئی شخص 9 تاریخ کی شب (دسویں تاریخ کی رات) صبح صادق تک میدانِ عرفات نہ پہنچ سکے تو اس کا حج نہیں ہوگا۔
اور اگر کوئی شخص 9 تاریخ کی شب (دسویں تاریخ کی رات) صبح صادق سے پہلے میدانِ عرفات میں خواہ کتنی ہی مختصر مدت کے لیے پہنچ جائے، حتیٰ کہ صرف میدان سے گزر جائے، تب بھی اس کا وقوفِ عرفہ ادا ہو جائے گا۔ کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ صحابی عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ تاخیر سے حج کے لیے پہنچے۔ وہ مختلف وادیوں سے گزرتے ہوئے رات کے وقت عرفات میں وقوف کرکے مزدلفہ پہنچے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے حج کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا،
«مَنْ أَدْرَكَ مَعَنَا هَذِهِ الصَّلاَةَ وَقَدْ وَقَفَ قَبْلَ ذَلِكَ بِعَرَفَة لَيْلاً أَوْ نَهَارًا فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ وَقَضَى تَفَثَهُ»
’جو شخص ہمارے ساتھ یہ نماز (مزدلفہ میں فجر کی نماز) ادا کرے، اور اس سے پہلے رات یا دن میں عرفات میں وقوف کر چکا ہو، اس کا حج مکمل ہوگیا اور وہ پاک صاف ہوگیا۔‘[1]
ایک دوسری حدیث میں آیا ہے کہ نجد کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حج کے متعلق سوال کیا تو آپ نے ان سے فرمایا،
«الْحَجُّ عَرَفَةُ ، فَمَنْ جَاءَ عَرَفَة قَبْلَ صَلاَةِ الْفَجْرِ ، لَيْلَةَ جَمْعٍ ، فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ»
’حج عرفہ ہے۔ جو شخص مزدلفہ کی رات فجر کی نماز سے پہلے عرفات میں حاضر ہو جائے، اس کا حج مکمل ہوگیا۔‘[2]
میدانِ عرفات میں کامل وقوف اسی شخص کا ہوا جس نے ظہر کے بعد سے غروبِ آفتاب کے بعد کچھ اندھیرا چھا جانے تک میدانِ عرفات میں قیام کیا۔
اگر کوئی شخص صرف دن کے کسی حصے میں وقوف کرے، مثلاً غروبِ آفتاب سے پہلے ہی وہاں سے نکل جائے، تو اس کے بارے میں علماء کی مختلف آراء ہیں۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کا حج ہی نہیں ہوگا۔ اس کے برخلاف امام ابو حنیفہ، شافعی اور احمد رحمہم اللہ کے نزدیک اس کا حج صحیح ہوگا، تاہم اسے اس کی وجہ سے دم دینا ہوگا۔
اکثر علماء کے نزدیک میدانِ عرفات میں وقوف کا وقت زوالِ آفتاب کے بعد شروع ہوتا ہے، اس سے پہلے نہیں۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا۔ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وقوفِ عرفہ کا وقت 9 تاریخ کے دن کے آغاز ہی سے شروع ہو جاتا ہے۔
اگر کوئی شخص عرفات میں وقوف کے دوران بے ہوش ہو جائے تو اس کا وقوفِ عرفہ صحیح ہوگا۔
یاد رکھیں، عرفات کے پہاڑ پر چڑھنا حج کا کوئی عمل نہیں ہے۔ یہ دنیا کے دوسرے پہاڑوں کی طرح ایک پہاڑ ہی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پہاڑ پر نہیں چڑھے تھے۔ آپ اونٹ پر سوار تھے اور وہ پہاڑ کے دامن میں بڑی چٹانوں کے پاس کھڑا تھا۔ لہٰذا پہاڑ پر چڑھنا ثواب کا کام نہیں ہے۔ اس کے باوجود اس پہاڑ پر چڑھنے کی کوشش میں بہت سے لوگ شدید زخمی یا بیمار ہو جاتے ہیں، یا اپنے ساتھیوں سے بچھڑ جاتے ہیں۔ یہ بالکل ناپسندیدہ اور سنت کے خلاف عمل ہے۔
[1]۔ مسند احمد: 4/15؛ نسائی: 3039؛ ابو داؤد: 1950؛ ترمذی: 891۔
[2]۔ نسائی: 3016۔