براہ راست مواد پر جائیں

حج گائیڈ

۹ ذوالحجہ

باب کے صفحات

دسویں دن کی فجر

2 منٹ کا مطالعہآخری اپ ڈیٹ 10 ستمبر، 2026

۱۔ آسمان بالکل روشن ہو جانے کے بعد، سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی منیٰ کی طرف روانہ ہوں گے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے مزدلفہ میں فجر کی نماز ادا کرکے فرمایا: ’مشرکین سورج طلوع ہونے تک مزدلفہ سے روانہ نہیں ہوتے تھے۔ اور وہ کہتے تھے،

أَشْرِقْ ثَبِيرُ كَيْمَا نُغِيرُ وَكَانُوا لَا يُفِيضُونَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَخَالَفَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم «فَأَفَاضَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ»

’اے ثبیر![1] تو سورج کی کرنوں سے روشن ہو جا، تاکہ ہم جلد روانہ ہو سکیں۔‘ اور وہ سورج طلوع ہونے سے پہلے روانہ نہیں ہوتے تھے؛ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے برخلاف عمل کیا اور سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی روانہ ہو گئے۔‘[2]

۲۔ تلبیہ اور تکبیر پڑھتے ہوئے منیٰ کی طرف چلتے رہیں گے۔ وادیِ مُحَسِّر[3] پہنچنے پر قدرے تیز چلیں گے۔ موجودہ دور میں لوگوں اور گاڑیوں کے ہجوم کی وجہ سے ایسا کرنا دشوار ہو گیا ہے۔ تاہم سنت کی پیروی کے لیے دل میں نیت کریں گے۔ موقع ملے تو عمل کرنے کی کوشش کریں گے۔

۳۔ بڑے جمرے کو کنکریاں مارنا شروع کرنے تک تلبیہ پڑھتے رہیں گے۔ فضل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں،

«أَنَّ النَّبِىِّ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَزَلْ يُلَبِّى حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ».

’نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمرۃ العقبہ (بڑے جمرے) کو کنکریاں مارنے سے عین پہلے تک تلبیہ پڑھ رہے تھے۔‘[4]

[1]۔ ثبیر مزدلفہ میں واقع مکہ کا سب سے بڑا پہاڑ ہے۔ جب سورج کی روشنی اس پہاڑ پر پڑتی تو سورج طلوع ہونے کا یقین ہو جاتا اور منیٰ کی طرف روانہ ہونا آسان ہو جاتا۔ اسی لیے وہ ثبیر کو سورج کی کرنوں سے روشن ہونے کی پکار دیتے تھے۔

[2]۔ ابن ماجہ: ۳۰۲۲۔

[3]۔ منیٰ اور مزدلفہ کے درمیان ایک مقام کا نام ہے۔ اسی مقام پر اللہ تعالیٰ نے ابرہہ اور اس کے ہاتھیوں کے لشکر کو ہلاک کیا تھا۔

[4]۔ بخاری ۱۵۴۴، مسلم: ۱۲۸۱۔