براہ راست مواد پر جائیں

حج گائیڈ

۹ ذوالحجہ

باب کے صفحات

مزدلفہ میں وقوف کا حکم

3 منٹ کا مطالعہآخری اپ ڈیٹ 10 ستمبر، 2026

۱۔ مزدلفہ میں وقوف کرنا واجب ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿فَإِذَآ أَفَضۡتُم مِّنۡ عَرَفَٰتٖ فَٱذۡكُرُواْ ٱللَّهَ عِندَ ٱلۡمَشۡعَرِ ٱلۡحَرَامِۖ وَٱذۡكُرُوهُ كَمَا هَدَىٰكُمۡ وَإِن كُنتُم مِّن قَبۡلِهِۦ لَمِنَ ٱلضَّآلِّينَ ١٩٨ ﴾ [البقرة: ١٩٨]

’جب تم عرفات سے واپس لوٹو تو مشعرِ حرام کے پاس پہنچ کر اللہ کو یاد کرو اور اسے اسی طرح یاد کرو جس طرح اس نے تمہیں ہدایت دی ہے، اگرچہ اس سے پہلے تم گمراہوں میں سے تھے۔‘[1]

۲۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ مزدلفہ میں وقوف کا وقت دراصل فجر سے شروع ہوتا ہے۔ ان کے نزدیک مزدلفہ میں رات گزارنا سنت ہے، جبکہ فجر کے بعد وہاں ٹھہرنا واجب ہے۔ اگر کوئی شخص کسی عذر کے بغیر فجر سے پہلے مزدلفہ چھوڑ دے تو اس پر دم (جانور ذبح کرنا) واجب ہوگا۔ قرآنِ کریم کے حکم اور مزدلفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام کے عمل کو دیکھتے ہوئے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا قول یہاں صحیح ترین قول معلوم ہوتا ہے۔‘[2]

۳۔ کمزور شخص اور اس کے ذمہ دار، عورت اور اس کے محرم، نیز حج سے متعلق ذمہ داریاں ادا کرنے والے شخص کے لیے آدھی رات کے بعد چاند ڈوب جانے پر مزدلفہ چھوڑنے کی اجازت ہے۔ اس لیے کہ:

الف۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کمزور لوگوں کے ساتھ رات ہی کو مزدلفہ سے روانہ کر دیا۔‘[3]

ب۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنے اہلِ خانہ میں سے کمزور لوگوں کو پہلے لے جاتے تھے۔ وہ رات کے وقت مزدلفہ میں مشعرِ حرام کے پاس وقوف کرتے اور وہاں جتنا چاہتے اللہ کا ذکر کرتے۔ پھر امام کے وقوف اور روانگی سے پہلے ہی مزدلفہ چھوڑ دیتے۔ ان میں سے بعض فجر کی نماز کے وقت منیٰ پہنچتے اور بعض اس کے بعد پہنچتے۔ منیٰ پہنچ کر وہ کنکریاں مارتے تھے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو اس کی اجازت دی ہے۔‘[4]

ج۔ اسماء رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام عبداللہ رحمہ اللہ، اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ اسماء رضی اللہ عنہا رات کے وقت مزدلفہ میں ٹھہریں۔ پھر نماز کے لیے کھڑی ہوگئیں۔ اس کے بعد فرمایا: ’اے بیٹے، کیا چاند ڈوب گیا ہے؟‘ میں نے کہا: نہیں۔ پھر مزید ایک گھنٹہ نماز پڑھنے کے بعد انہوں نے دوبارہ پوچھا: ’بیٹے، کیا چاند ڈوب گیا ہے؟‘ میں نے جواب دیا: ہاں۔ تب انہوں نے فرمایا: چلو۔ چنانچہ ہم روانہ ہوگئے۔ پھر انہوں نے جمرہ کو کنکریاں ماریں اور اپنی قیام گاہ پہنچ کر فجر کی نماز ادا کی۔ تب میں نے کہا: ’اے فلاں، ہم تو بہت سویرے نکل آئے ہیں۔‘ انہوں نے فرمایا: ’اے بیٹے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو اس معاملے میں اجازت دی ہے۔‘[5]

[1]۔ سورۃ البقرہ: ۱۹۸۔

[2]۔ امام شافعی رحمہ اللہ اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے نزدیک آدھی رات تک وقوف کرنا واجب ہے۔ آدھی رات سے پہلے مزدلفہ چھوڑنے پر دم واجب ہوگا۔ امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کرنے میں جتنا وقت لگتا ہے، اتنی دیر مزدلفہ میں ٹھہرنے ہی سے وقوف ادا ہو جائے گا۔ خالص الجمان: ص۔ ۲۱۴۔

[3]۔ بخاری: ۱۶۷۸، مسلم: ۱۲۹۴۔

[4]۔ بخاری: ۱۵۶۴۔

[5]۔ بخاری: ۱۶۷۹، مسلم: ۱۲۹۱۔