چار رکعت والی فرض نمازیں دو دو رکعت پڑھنی ہوں گی۔ اسے قصر کرنا کہا جاتا ہے۔ یہ نمازیں ظہر، عصر اور عشاء ہیں۔ حج کے موقع پر منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے اندر اور باہر کے تمام لوگوں کے ساتھ یہ نمازیں قصر کر کے پڑھی تھیں، یہ سنت ہے۔ اس معاملے میں آپ نے مقیم اور مسافر کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا۔ یعنی مکہ کے لوگوں کو بھی چار رکعت پڑھنے کا حکم نہیں دیا۔ (فتاویٰ ابن تیمیہ اور فتاویٰ ابن باز) تاہم یاد رکھنا چاہیے کہ فجر اور مغرب کی فرض نمازیں، یعنی دو اور تین رکعت والی نمازیں، کبھی قصر نہیں ہوتیں۔ منیٰ میں ہر نماز اس کے وقت پر ادا کریں گے، جمع نہیں کریں گے۔ یعنی ظہر و عصر کو ایک ساتھ اور مغرب و عشاء کو ایک ساتھ نہیں پڑھیں گے، خواہ مسافر ہی کیوں نہ ہوں۔
سوال و جواب
حج