براہ راست مواد پر جائیں

سوال و جواب

حج

لوگ عرفات کے میدان میں عموماً کس قسم کی غلطیاں کرتے ہیں؟

حجاج کرام میں عموماً جو غلطیاں اور کوتاہیاں دیکھی جاتی ہیں، وہ درج ذیل ہیں:

(۱) بعض لوگ عرفات کی حدود سے باہر ٹھہرے رہتے ہیں، حالانکہ عرفات کی حدود کی نشان دہی کرنے والے ستون چاروں طرف نصب ہیں۔ ایسا کرنے سے حج باطل ہو جائے گا۔

(۲) بعض حاجی پہاڑ پر جا کر ہجوم کرتے ہیں، اس کے پتھروں کو چھوتے اور اپنے جسم پر ملتے ہیں۔ یہ امور شرک اور بدعت میں شامل ہیں۔

(۳) بعض حاجی بے مقصد باتوں، قصہ گوئی اور ہنسی مذاق میں مشغول رہتے ہیں اور دعا و اذکار پڑھنے سے گریز کرکے قیمتی وقت ضائع کرتے اور اپنے حج کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

(۴) بعض لوگ دعا کے وقت قبلہ رخ ہونے کے بجائے جبلِ رحمت کی طرف رخ کرکے دعا کرتے ہیں، حالانکہ سنت یہ ہے کہ کعبہ کی طرف رخ کرکے دعا کی جائے۔

(۵) ایک اور بڑی غلطی یہ ہے کہ بعض حاجی غروبِ آفتاب سے پہلے ہی میدانِ عرفات چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ یہ جائز نہیں ہے۔

(۶) بعض حاجی فجر سے پہلے ہی منیٰ سے عرفات کے لیے روانہ ہو جاتے ہیں۔ سنت یہ ہے کہ طلوعِ آفتاب کے بعد روانہ ہوا جائے۔

(۷) مسجدِ نمرہ میں جماعت نہ ملنے کی صورت میں ظہر و عصر کو جمع کرکے پڑھنے کے بجائے الگ الگ اوقات میں ادا کرتے ہیں۔ یہ بھی درست نہیں ہے۔

(۸) عرفات میں ظہر و عصر کو جمع کرکے پڑھنے اور دونوں کی دو دو رکعت قصر کرنے کو جائز نہ سمجھنا غلط خیال ہے۔