(۱) تاخیر ہو جائے تب بھی مزدلفہ پہنچ کر مغرب اور عشاء پڑھنی ہوں گی، اس سے پہلے نہیں۔ تاہم ان دونوں نمازوں کو مؤخر کرتے کرتے آدھی رات کے بعد تک لے جانا جائز نہیں، البتہ عذر کی صورت میں جائز ہے۔
(۲) ترتیب برقرار رکھتے ہوئے نماز ادا کریں۔ یعنی پہلے مغرب کے تین فرض اور اس کے فوراً بعد عشاء کے دو فرض ادا کریں، وتر پڑھیں اور فجر کی سنتیں بھی نہ چھوڑیں۔
(۳) ان دونوں وقتوں کی نماز کے لیے صرف ایک مرتبہ اذان دیں، لیکن اقامت دونوں مرتبہ دینی ہوگی۔
(۴) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں کوئی نفل یا سنت نماز نہیں پڑھی۔ آپ بھی نہ پڑھیں۔
(۵) نماز کی ادائیگی ختم ہوتے ہی سو جائیں، تاکہ اگلے دن کے اعمال چستی کے ساتھ انجام دیے جا سکیں۔
(۶) اس دن فجر کی نماز اندھیرے ہی میں اول وقت میں پڑھ لیں۔ دو رکعت فرض کے ساتھ دو رکعت سنت بھی پڑھیں۔ اس کے بعد ”مشعر الحرام“ کے قریب قبلہ رخ کھڑے ہو کر ہاتھ اٹھا کر دعا و مناجات کرتے رہیں۔ اگر یہاں نہ آ سکیں تو کوئی حرج نہیں۔ مزدلفہ میں کسی بھی جگہ کھڑے ہو کر دعا کر سکتے ہیں۔