براہ راست مواد پر جائیں

حج گائیڈ

اعمالِ حج کی مختصر تاریخ

باب کے صفحات

رمل

1 منٹ کا مطالعہآخری اپ ڈیٹ 23 اگست، 2026

رَمَل کا آغاز ساتویں ہجری میں ہوا۔ رسول اللہ (ﷺ)چھٹی ہجری میں عمرہ ادا کیے بغیر حدیبیہ سے واپس چلے گئے۔ معاہدۂ حدیبیہ کے مطابق اگلے سال آپ عمرہ ادا کرنے کی غرض سے واپس آئے۔ یہ ذوالقعدہ کا مہینہ تھا۔ اس سال بعض صحابہ بخار میں مبتلا تھے۔ اس لیے مکہ کے مشرکین مسلمانوں کا مذاق اڑاتے ہوئے آپس میں کہنے لگے: ’تمہارے پاس ایک ایسی جماعت آ رہی ہے جسے یثرب (مدینہ) کے بخار نے کمزور کر دیا ہے۔‘[1] یہ سن کر رسول اللہ (ﷺ)نے صحابہ (رضی اللہ عنہم) کو رَمَل کرنے کا حکم دیا، یعنی ہمارے زمانے کی فوج کے انداز میں چھوٹے چھوٹے قدموں کے ساتھ بدن کو حرکت دیتے ہوئے سینہ تان کر دوڑنے کو کہا۔ مقصد یہ تھا کہ مشرکین کو باور کرا دیا جائے کہ مومن کبھی کمزور نہیں ہوتا۔ اسی مقصد کے تحت رَمَل کے ساتھ اضطباع، یعنی چادر کو دائیں بغل کے نیچے سے گزار کر دایاں کندھا کھلا رکھنے کا بھی آپ نے حکم دیا۔ اسی وقت سے رَمَل اور اضطباع کا حکم جاری ہوا۔

[1] - عن ابن عباس رضي الله عنهما قال :قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم وأصحابه ، فقال المشركون : إنه يقدم عليكم قوم قد وهنتهم حمى يثرب ، فأمرهم النبي صلى الله عليه وسلم أن يرمـلوا في الأشواط الثلاثة .. وفــــــــــــي رواية زيادة : ارملوا ليرى المشركون قوتكم بخاري : 1602 ومسلم : 1262.