ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،
«لَمَّا أَتَى إِبْرَاهِيمُ خَلِيلُ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ الْمَنَاسِكَ عَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ عِنْدَ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى سَاخَ فِى الأَرْضِ ثُمَّ عَرَضَ لَهُ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الثَّانِيَةِ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى سَاخَ فِى الأَرْضِ ثُمَّ عَرْضَ لَهُ فِى الْجَمْرَةِ الثَّالِثَةِ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى سَاخَ فِى الأَرْضِ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُ : الشَّيْطَانَ تَرْجُمُونَ وَملةَ أَبِيكُمْ تَتَّبِعُونَ».
’جب ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام حج کے احکام ادا کر رہے تھے تو جمرۃ العقبہ کے پاس شیطان ان کے سامنے نمودار ہوا۔ انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں، جس کے نتیجے میں وہ زمین میں دھنس گیا۔ پھر وہ دوسرے جمرے کے پاس نمودار ہوا۔ انہوں نے دوبارہ اسے سات کنکریاں ماریں، جس کے نتیجے میں وہ زمین میں دھنس گیا۔ پھر وہ تیسرے جمرے کے پاس نمودار ہوا۔ انہوں نے دوبارہ اسے سات کنکریاں ماریں، جس کے نتیجے میں وہ زمین میں دھنس گیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تم شیطان کو کنکریاں مارتے ہو اور اپنے والد ابراہیم کے دین کی پیروی کرتے ہو۔‘[1]
تاہم، یہ سمجھنا ہرگز مناسب نہیں ہوگا کہ موجودہ زمانے میں جو لوگ کنکریاں مار رہے ہیں، وہ شیطان کو ضرب لگا رہے ہیں؛ بلکہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے ہوئے اللہ کے ذکر کو سربلند رکھنے کے لیے کنکریاں مارتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،
« إِنَّمَا جُعِلَ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَرَمْىُ الْجِمَارِ لإِقَامَةِ ذِكْرِ اللَّه»
’بیت اللہ کا طواف، صفا و مروہ کے درمیان سعی اور جمرات کو کنکریاں مارنے کا حکم اللہ کے ذکر کو قائم کرنے کے مقصد سے دیا گیا ہے۔‘[2]
[1]۔ صحیح الترغیب والترہیب: ۶۵۱۱۔
[2]۔ ترمذی: ۹۰۲؛ جامع العلوم: ۱۵۰۵۔