کعبہ شریف، اس کے چاروں طرف کا مطاف، مطاف کے پار عمارت، اور عمارت کے پار سنگِ مرمر بچھا ہوا کھلا صحن، یہ سب مل کر موجودہ مسجد الحرام بنتے ہیں۔ بعض لوگوں کے نزدیک پورا حرم کا علاقہ مسجد الحرام شمار ہوتا ہے۔ قرآنِ کریم کی ایک آیت میں آیا ہے، لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ - تم ضرور مسجد الحرام میں داخل ہوگے۔[1] یعنی حرم کے علاقے میں داخل ہوگے۔ سورۂ اسراء میں مسجد الحرام کا ذکر آیا ہے۔ ارشاد ہوا ہے—
سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ ﴿۱﴾
-پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات کے وقت مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ لے گئی، جس کے چاروں طرف کو میں نے بابرکت بنایا ہے۔[2] مؤرخین کے مطابق رسول اللہ (ﷺ) کو ام ہانی کے گھر کی اسی جگہ سے اسراء و معراج کے لیے لے جایا گیا تھا۔ اور اس وقت کعبہ شریف کے چاروں طرف تھوڑے سے علاقے پر مسجد الحرام مشتمل تھی، جبکہ ام ہانی کا گھر مسجد الحرام سے دور تھا۔ اس کے باوجود اس جگہ کو مسجد الحرام کہا گیا ہے۔
[1] - سورۃ الفتح: ۲۷
[2] - سورۃ الاسراء: ۱