اللہ تعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام کے ذریعے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حدودِ حرم دکھا دیں۔ انہوں نے جبرئیل علیہ السلام کی ہدایت کے مطابق حدود کے ستون نصب کیے۔ فتحِ مکہ تک یہ اسی حالت میں بلا تغیر رہے۔ اسی سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمیم بن اسد الخزاعی کو بھیج کر ان کی تجدید کرائی۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں چار قریشی افراد کو بھیج کر دوبارہ ان کی تجدید کرائی۔ اللہ تعالیٰ نے البیت العتیق، یعنی کعبہ، کے احترام میں حدودِ حرم مقرر کی ہیں اور اسے امن والا علاقہ قرار دیا ہے۔ اس مقررہ علاقے میں انسانوں سمیت تمام جانور، پرندے، حتیٰ کہ درخت، پودے اور بیل بوٹے بھی محفوظ ہیں۔ یہاں نیک اعمال کی فضیلت دیگر تمام مقامات سے کہیں زیادہ ہے۔ حدودِ حرم مکہ کے چاروں طرف پھیلی ہوئی ہیں، تاہم تمام سمتوں کا فاصلہ یکساں نہیں ہے۔ اس وقت مکہ میں داخل ہونے والی مرکزی سڑکوں پر حدودِ حرم کی نشانیاں نصب ہیں، جو درج ذیل ہیں:
مغرب کی جانب جدہ کے راستے میں ’’الشمَیسی‘‘ نامی مقام تک، جسے الحدیبیہ کہا جاتا ہے۔ یہ مکہ سے 22 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
جنوب کی جانب تہامہ سے ہوتے ہوئے یمن جانے والے راستے میں ’’اَضاۃ لِبن‘‘ نامی مقام تک، جو مکہ سے 12 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
مشرق کی جانب ’’وادیِ عُیَینہ‘‘ نامی مقام کے مغربی کنارے تک، جو مکہ سے 15 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
شمال مشرق کی جانب جعرانہ کے راستے میں شرائع المجاہدین کے گاؤں تک، جو مکہ سے 16 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
شمال کی جانب ’’تنعیم‘‘ نامی مقام تک۔ یہ مکہ سے 7 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس وقت یہاں ایک مسجد ہے، جو مسجدِ عائشہ کے نام سے مشہور ہے۔