مقدس کعبہ کے جنوبی گوشے میں، زمین سے 1.10 میٹر کی بلندی پر حجرِ اسود نصب ہے۔ حجرِ اسود کی لمبائی 25 سینٹی میٹر اور چوڑائی 17 سینٹی میٹر ہے۔ ابتدا میں حجرِ اسود ایک ہی ٹکڑا تھا، قرامطہ فرقے نے 319 ہجری میں اس پتھر کو اٹھا کر اپنے علاقے میں لے گیا۔ اس وقت یہ پتھر ٹوٹ کر 8 ٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا۔ ان ٹکڑوں میں سب سے بڑا کھجور کے برابر ہے۔ ان ٹکڑوں کو اب ایک دوسرے پتھر میں نصب کیا گیا ہے، جس کے چاروں طرف چاندی کا حاشیہ لگایا گیا ہے۔ چاندی کے حاشیے والے پتھر کو چومنا مقصود نہیں، بلکہ اس میں نصب حجرِ اسود کے ٹکڑوں کو چومنے یا چھونے ہی سے حجرِ اسود کو چومنا یا چھونا شمار ہوگا۔
حجرِ اسود جنت سے اترا ہوا ایک پتھر ہے[1]، جس کا رنگ ابتدا میں—ایک حدیث کے مطابق—دودھ یا برف سے بھی زیادہ سفید تھا۔ بعد میں اولادِ آدم کے گناہوں نے اسے سیاہ کر دیا۔[2] حجرِ اسود کو چھونے سے گناہ معاف ہوتے ہیں۔[3] حجرِ اسود کی ایک زبان اور دو ہونٹ ہیں، جو شخص اسے چومے یا چھوئے گا، وہ قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی دے گا۔[4] تاہم حجرِ اسود محض ایک پتھر ہے، جو کسی کو نہ فائدہ پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان۔[5]
1] - الحجر الأسود من الجنة (نسائی: 5/226، البانی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے: صحیح سنن النسائی: 2748)
[2] - نزل الحجر الأسود من الجنة وهو أشد بياضا من اللبن فسودته خطايا بني آدم (ترمذی: باب الحج (877) وفي رواية أشد بياضا من الثلج (ابن خزیمہ: 4/282)
[3] - إن مسحهما يحطان الخطايا حطا (نسائی: 5/221؛ البانی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے، نمبر 2732)
[4] - إن لهذا الحجر لسانا وشفتين يشهد لمن استلمه يوم القيامة بحق(احمد: 1/266؛ البانی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ (دیکھیے: صحیح ابن ماجہ، نمبر 2381)
[5] - عمر (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا، إني أعلم أنك لا تضر ولا تنفع - میں یقیناً جانتا ہوں کہ تم نہ فائدہ پہنچا سکتے ہو اور نہ نقصان۔ (بخاری: 3/462)