حجرِ اسود سے خانۂ کعبہ کے دروازے تک کی جگہ کو ملتزم کہتے ہیں۔[1] ملتزم کے لفظی معنی ہیں: ’’چمٹے رہنے کی جگہ‘‘۔ صحابۂ کرام مکہ آکر ملتزم پر جاتے اور دونوں ہتھیلیاں، دونوں بازو، چہرہ اور سینہ اس سے لگا کر دعا کرتے تھے۔ طوافِ وداع سے پہلے یا بعد میں، یا کسی اور وقت ملتزم پر جاکر دعا کی جاسکتی ہے۔ امام ابن تیمیہ (رح.) فرماتے ہیں—
إن أحب أن يأتي الملتزم وهو ما بين الحجر الأسود والباب فيضع عليه صدره ووجهه وذراعيه وكفيه ويدعو، ويسأل الله تعالى حاجته، فعل ذلك وله أن يفعل قبل طواف الوداع ، فإن هذا الالتزام لا فرق بين أن يكون حال الوداع وغيره ، والصحابة كانوا يفعلون ذلك حين يدخلون مكة
—اگر ملتزم پر آنے کا ارادہ کرے—اور ملتزم حجرِ اسود اور دروازے کے درمیان کی جگہ ہے—پھر وہاں اپنا سینہ، چہرہ، دونوں بازو اور دونوں ہاتھ رکھے، دعا کرے اور اللہ سے اپنی حاجتیں مانگے، تو ایسا کرنے کی اجازت ہے۔ طوافِ وداع سے پہلے بھی ایسا کرسکتا ہے۔ ملتزم سے چمٹنے کے معاملے میں وداع کی حالت اور دیگر حالتوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ صحابۂ کرام جب مکہ میں داخل ہوتے تو ایسا کرتے تھے۔[2] تاہم موجودہ دور میں لاکھوں لوگوں کے ہجوم میں ملتزم تک واپس جانا بہت ہی دشوار ہے۔ اس لیے موقع ملے تو جائیں، ورنہ جانے کی ضرورت نہیں؛ کیونکہ ملتزم پر جانا طواف کا حصہ نہیں ہے۔
[1] - المصنف لعبد الرزاق: ۵/۷۳
[2] - شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی مجموع الفتاویٰ: ۲۶/۱۴۲