مقام کے لغوی معنی ہیں: کھڑے ہوئے شخص کے پاؤں رکھنے کی جگہ۔ اور مقامِ ابراہیم سے مراد وہ پتھر ہے جسے کعبہ شریف کی تعمیر کے وقت اسماعیل لے کر آئے تھے، تاکہ ان کے والد ابراہیم اس پر کھڑے ہو کر خانۂ کعبہ تعمیر کر سکیں۔ اسماعیل (علیہ السلام) پتھر لا کر دیتے تھے، اور ابراہیم (علیہ السلام) اپنے مبارک ہاتھوں سے انہیں کعبہ کی دیوار میں لگاتے تھے۔ جب اوپر جانے کی ضرورت ہوتی تو وہ پتھر معجزانہ طور پر اوپر اٹھ جاتا تھا۔[1] تفسیرِ طبری میں سورۂ آل عمران کی آیت نمبر 97 کی تفسیر میں آیا ہے—
يه علامات بينات من قدرة الله ، وآثار خليله ابراهيم ،منهن أثر قدم خليله ابراهيم في الحجر الذي قام عليه .
بیت اللہ میں اللہ کی قدرت کی واضح نشانیاں اور خلیل اللہ ابراہیم (علیہ السلام) کی نشانیاں موجود ہیں، جن میں سے ایک اس پتھر پر ان کے خلیل ابراہیم (علیہ السلام) کے قدموں کے نشانات ہیں، جس پر وہ کھڑے ہوئے تھے۔[2]
ابراہیم (علیہ السلام) کے قدموں کے نشانات میں سے ایک 10 سینٹی میٹر گہرا اور دوسرا 9 سینٹی میٹر گہرا ہے۔ ہر قدم کی لمبائی 22 سینٹی میٹر اور چوڑائی 11 سینٹی میٹر ہے۔
اس وقت دس لاکھ ریال کی لاگت سے مقام کا باکس تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ پیتل اور 10 ملی میٹر موٹے شیشے سے بنایا گیا ہے۔ اندرونی جالی پر سونا چڑھایا گیا ہے۔ حجرِ اسود سے مقامِ ابراہیم کا فاصلہ 14.5 میٹر ہے۔[3]
طواف کے بعد مقامِ ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز ادا کرنی ہوتی ہے۔ اگر جگہ نہ ملے تو کسی اور مقام پر ادا کرنے سے بھی نماز ہو جاتی ہے۔
[1] - دیکھیے ڈاکٹر محمد الیاس عبدالغنی: تاریخ مکہ قدیماً و حدیثاً، ص: 71
[2] - تفسیرِ طبری: 4/11
[3] - دیکھیے ڈاکٹر محمد الیاس عبدالغنی: حوالۂ سابق، ص 75-76