ہم عرفہ میں وقوف کے متعین مقام سے باہر وقوف کر رہے تھے۔ ابن مِربع انصاری ہمارے پاس آئے اور کہا: میں آپ لوگوں کے پاس رسول اللہ ﷺ کا نمائندہ بن کر آیا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہے: حج کے مشاعر—مقامات—میں ٹھہرے رہو، کیونکہ تم اپنے باپ ابراہیم کی میراث پر ہو۔[1] اس کا مطلب یہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے عرفہ میں وقوف کیا تھا، اسی بنا پر ہم بھی وقوف کرتے ہیں۔
[1]- ابو داؤد و ترمذی: حدیث نمبر (۸۸۳)۔ البانی نے اس حدیث کو صحیح ابی داؤد میں صحیح قرار دیا ہے (حدیث نمبر ۱۶۸۸)۔